مطلوبہ
معلومات جو انصاف کے کٹہرے میں لائے

عبدللہ یارے

ایک کروڑ ڈالر تک

العدل القائدہ کا ایک سینئر لیڈر ہے اور القائدہ کی لیڈرشُپ کونسل، “مجلس الشُورہ کا رُکن ہے۔” العدل القائدہ کی فوجی کمیٹی کی صدارت کرتا ہے۔

العدل پر نومبر 1998 میں مقدمہ چلایا گیا اور ایک وفاقی جیوری نے اُس پر 7 اگست 1998 کو درِ اسلام، تنزانیہ اور نیروبی کینیا میں امریکی قونصل خانوں پر ہونے والے حملوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ اُن حملوں میں 224 لوگ ہلاک اور 5000 سے زائد زخمی ہوئے۔

وہ مصر کی خاص فوجوں میں 1987 تک لیفٹیننٹ کرنل تھا جب مصری وزیر داخلہ کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی اور مصری حکومت نے ہزاروں دوسرے جنگجوؤں کے ساتھ اُسے بھی گرفتار کیا

1990 میں العدل اور دوسرے القائدہ کے کارکنوں نے مختلف ممالک میں فوجی اور سراغ رسانی کی تربیت فراہم کی جس میں افغانستان، پاکستان اور سوڈان شامل ہیں جس کا مقصد القائدہ اور ساتھی جماعتوں کو استعمال کرنا تھا جس میں مصری اسلامی جہاد بھی شامل ہیں۔

1992 اور 1993 میں عبداللہ اور اُس نے القائدہ کے کارکنوں اور سومالیا کے قبائلی لوگوں کو فوجی ٹریننگ مہیا کیا جو امریکی فوجوں کے خلاف اُمید بحال کرو کاروائی میں موگا دیشُو میں لڑے۔

اُس پر نومبر 1998 میں مقدمہ چلایا گیا اور ایک وفاقی جیوری نے اُس پر 7 اگست 1998 کو درِ اسلام، تنزانیہ اور نیروبی کینیا میں امریکی قونصل خانوں پر ہونے والے حملوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔

قونصل خانوں پر حملوں کے بعد وہ ایران کی اسلامی انقلاب کی فوجوں کے زیرِ خفاظت جنوبی مشرقی اِیران منتقل ہو گیا۔ اپریل 2003 میں ایرانی حکام نے عبداللہ کو، اُسے اور دوسرے القائدہ لیڈران کو گرفتار کر لیا۔

ستمبر 2015 میں العدل اور چار دوسرے القائدہ لیڈران کو ایک ایرانی ڈپلومیٹ جس کو القائدہ نے اغواء کیا تھا کے بدلے میں ایرانی جیل سے رہا کر دیا گیا۔

العدل ابُو مُساب الزرقوی کا سینئر لیفٹیننٹ تھا جس نے عراق میں القائدہ کی بنیاد رکھی جو بعد میں آئی سِل بن گئی۔

ایک اور تصویر

English AAA and SaA PDF