کامیابی کی کہانی

رمزی احمد یوسف

سزا یافتہ

رمزی احمد یوسف فروری 1993 میں نیو یارک کے عالمی تجارتی مرکز پر بمباری کا ذمہ دار دہشت گرد ماسٹر مائنڈ تھا جس میں چھ لوگوں کی موت ہوئی اور ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ یوسف اور اس کے معاونین دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی گاڑی لے کر عالمی تجارتی مرکز کے تہ خانے میں گھس گئے۔ بمباری کے چند گھنٹوں کے بعد یوسف ایک جہاز میں سوار ہو پاکستان بھاگ گیا۔.

یوسف دوبارہ فلپائن میں منظر عام پر آیا جہاں وہ خطرناک دہشت گرد پلاٹ تیار کرنے میں مصروف تھا۔ یوسف نے جنوری 14، 1995 کو فلپائن کے دورے کے دوران پوپ جون پال ثانی کے قتل اور اس کے کچھ دنوں بعد ایشیاء میں 12 امریکی ہوائی جہاز اڑانے کا منصوبہ بنایا۔ مجموعی پلاٹ کو “اوپلان بوجِنکا ” کا نام دیا گیا، اس اصطلاح کے روز مرہ بول چال کی عربی میں ترجمہ ہے “آپریشن دھماکہ” یا “آپریشن بڑا دھماکہ”۔ اوپلان بوجینکا کے پیچھے یوسف واضح طور پر ماسٹر مائنڈ تھا، لیکن اوپلان بوجِنکا کے دیگر اہم کرداروں میں ولی خان امین شاہ، عبدالحکیم مراد، خالد شیخ محمد (یوسف کاچچا اور ستمبر 11 کے حملوں کا ماسٹر مائنڈ) اور حمبلی –شامل تھے۔ یہ سبھی القاعدہ کے پکے اراکین ہیں۔.

مجموعی پلاٹ کے حصے کے طور پر جنوری 21 اور 22، 1995 کو پانچ دہشت گردوں کو امریکہ جانے والے 12 جہازوں پر دھماکہ خیز مواد رکھنا تھا۔ اِن جہازوں کو سفر کے پہلے مرحلے میں مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیاء میں ٹھہرنا تھا اور وہاں اِن دہشت گردوں کو اترنا تھا جس کے فوراً بعد یہ تمام جہاز بحرالکاہل کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے ایک ساتھ دھماکے سے پھٹ جانے تھے۔ پانچوں دہشت گردوں میں سے ہر ایک کو دوسری یا پھر تیسری فلائیٹ پر سوار ہونا تھا تاکہ تمام کے تمام 12 جہازوں پر بم رکھ دئے جائیں۔ منصوبے کے اِس مرحلے میں 4،000 سے زیادہ افراد کی ہلاکت متوقع تھی۔.

خوش قسمتی سے، یوسف اور اس کے معاونین سے کچھ کوتاہی ہوئی جس کے نتیجے میں ان کا تنزل شروع ہوا۔ جنوری 6، 1995 کو یوسف اور مراد منیلا کے اپنے اپارٹمنٹ سے بھاگنے پر مجبور ہوگئے جب کیمیاوی مرکب سے دھوئیں کا بادل اٹھ اٹھ کر اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے باہر نکلنے لگا۔ یوسف نے مراد کو اپارٹمنٹ جاکر لیپ ٹاپ کمپیوٹر اور دیگر اہم ثبوت نکال لانے کو کہا۔ جب مراد اپارٹمنٹ واپس لوٹا تو اس کا پولس سے سامنا ہوگیا جو پہلے ہی اس مقام پر پہنچ چکی تھی۔ یوسف نے یہ سوچ کر کہ مراد گرفتار ہوچکا ہوگا، پاکستان بھاگ گیا۔.

فروری 1995 میں ایک مخبر آر ایف جے کی میچ بک دیکھ کر اور انعام سے تحریک پاکر اسلام آباد۔ پاکستان میں امریکی سفارت خانے گیا اور یوسف کے جائے مقام کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ فروری 7، 1995 کو پاکستانی حکام نے امریکی محکمہ خارجہ کے ڈپلومیٹک سیکورٹی کے اہلکاروں کی مدد سے، اسلام آباد، پاکستان میں یوسف کو گرفتار کیا اور اسے امریکہ کے حوالے کردیا۔ یوسف اس وقت کولوراڈو میں قید ہے۔ اوپلان بوجینکا میں شامل دیگر چار بڑے کارندوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔.