مطلوبہ
معلومات جو انصاف کے کٹہرے میں لائے

قاسم الرِمی

ایک کروڑ ڈالر تک

قاسم الرِمی کو جون 2015 میں اے کیو اے پی کا امیر مقرر کیا گیا جس کے فورا بعد اُس نے القائدہ کے لیڈر ایمان الزواہیری کے ساتھ فرمانبرداری کا حلف لیا اور امریکہ کے خلاف دہشت گرد حملوں کو نئی شروعات دی۔ 1990 کی دھائی میں الرِمی نے افغانستان میں ایک القائدہ کیمپ میں دہشت گردوں کو تربیت دی اور اُس کے بعد یمن واپس گیا اور اے کیو اے پی کا فوجی سالار بنا۔ اُسے 2005 میں یمن میں امریکی سفیر کو قتل کرنے کی سازش میں 5 سال کی سزا سُنائی گئی لیکن وہ 2006 میں فرار ہو گیا۔ ستمبر 2008 میں امریکی سفارت خانے پر ہونے والے حملے سے بھی الرِمی کا تعلق ہے جس میں 10یمنی محافظ، 4 شہری اور 6 دہشت گرد ہلاک ہُوئے۔ دسمبر 2009 میں الرِمی کا تعلق “زیرِ جامہ بمبار” عُمر فاروق عبدالمطلب کی ایک امریکی ہوائی جہاز کو تباہ کرنے کی خود کش حملے کی کوشش سے بھی جوڑا گیا۔ 2009 میں یمنی حکومت نے اُس پر الزام لگایا کہ وہ یمن کے ابیان صوبے میں القائدہ کے تربیتی کیمپ چلا رہا ہے۔

7 مئی 2017 کو اُس نے ایک وڈیو میں اُن حمایتیوں سے جو مغربی ممالک میں رہ رہیں سے کہا کہ وہ ” آسان اور سادہ” حملے کریں اور عمر متین کو سراہیں جس نے جون 2016 میں اورلینڈو فلوریڈا میں ایک نائٹ کلب میں ہونے والی بڑی فائرنگ میں 49 لوگوں کو ہلاک کیا۔

مئی 2010 میں سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے الرِمی کو صدارتی حُکم 13224 کے تحت ایک خاص دہشت گرد قرار دیا۔ مئی 2010 میں الرِمی کو اقوام متحدہ کی 1267 کی پابندیاں عائد کرنے والی کمیٹی کی فہرست میں شامل کیا گیا جس کا تعلق القائدہ/آئی سِل سے ہے۔ 14 اکتوبر 2014 کو الرِمی کے سر کے لیے 5 ملین ڈالر کے انعام کی پیشکس کی گئی۔

ایک اور تصویر

قاسم الرِمی
al-Rimi and Batarfi English PDF
al-Rimi and Batarfi Arabic PDF
AQAP English PDF
AQAP Arabic PDF