دہشت گرد واقعہ
معلومات جو کہ۔۔۔

2008 کے ممبئی پر ھملے

ممبئ، انڈیا | 26-29 نومبر، 2008

26 نومبر، 2008 کو شروع ہونے اور 29 نومبر، 2008 تک جاری رہنے والے وہ ممبئ، انڈیا میں مختلف مقامات پر ہونے والے ہم ربط ھملے تھے جنہیں وہ دس ھملہ آور عمل میں لائے جنہیں پاکستان میں قائم غیر مُلکی دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ نے تربیت دی تھی، وہ ھملے جن مقامات پر کیے گئے اُن میں تاج مھل ہوٹل، اوبے روئی ہوٹل، لیو پولڈ کیفے، ناریمن (چاباد) ہاوس اور چھاتراپتی شواجی ٹرمینل ٹرین سٹیشن شامل ہیں۔ ان ھملوں میں تقریبا 170لوگ مارے گئے۔

تین دن کے مھاصرے میں چھ امریکی مارے گئے: بین ذائن کرومین، گیوری ال ھولٹز برگ، سندیپ جیسوانی، ایلن شر، اُن کی بیٹی نا اومی شر اور اریاہ لیبش ٹیٹل بام۔

انعامات برائے انصاف ایسی معلومات کے لیے 5 ملین ڈالر تک کے انعام کی پیشکش کر رہا ہے جو اُن افراد کے بارے ہو جو ان ھملوں کے ذمہ دار تھے۔ ان وھشیانہ ھملوں کے اہم رُکن ابھی بھی آزاد پھر رہے ہیں اور تھقیات ابھی تک جاری ہیں۔ اس انعام کی پیشکش کسی بھی ایسے شخص کے لیے ہے جو ان ھملوں میں کسی بھی طرھ سے شریک ہے۔

ڈیوڈ کولمین ہیڈلی اور تھور رانا پر اُن دہشت گرد ھملوں میں مدد کرنے پر امریکی وفاقی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ جنوری 2013 میں ہیڈلی جو کہ ایک امریکی شہری ہے لیکن پاکستانی وراثت سے ہے کو 35 سال کی سزا سُنائی گئی کیونکہ وہ درجن بھر وفاقی دہشت گرد جرائم میں شامل تھا جن کا تعلق نومبر 2008 میں ممبئ، انڈیا میں ہونے والے دہشت گرد ھملے اور ڈنمارک میں ایک اخبار کے دفتر پر تجویز کردہ ھملےشامل ہیں۔ مارچ 2010 میں اُس نے تمام بارہ ھملوں میں شمولیت پر اپنے جُرم کا اعتراف کیا جس میں چھ امریکیوں کا قتل بھی شامل ہے۔ ہیڈلی پر انڈیا میں عوامی مقامات پر بم دھماکہ کرنے، لوگوں کو قتل اور مستقل طور پر زخمی کرنے، انڈیا میں امریکی شہریوں کو چھ بار قتل کرنے میں مدد کرنے، انڈیا میں دہشت گردی کو مدد مہیا کرنے پر، ڈینمارک میں لوگوں کو قتل یا مستقل طور پر زخمی کرنے، ڈینمارک میں دہشت گردی کو مادی مدد مہیا کرنے اور لشکر طیبہ کو مادی مدد مہیا کرنے کی سازش کرنے پر الزام لگایا گیا۔رانا جس کا تعلق کینیڈا سے ہے اور جو ہیڈلی کا کافی عرصے سے دوست ہے کو ڈنمارک میں دہشت گردی میں مدد مہیا کرنے اور لشکر طیبہ کو مادی مدد مہیا کرنے پر 14 سال قید کی سزا سُنائی گئی۔ جون 2011 میں رانا کو نومبر 2008 میں ممبئ دہشت گرد ھملوں کے الزام سے بری کر دیا گیا لیکن اُس پر ڈینش اخبار پر ھملے اور لشکر طیبہ کو مادی مدد مہیا کرنے کی سازش پر مقدمہ چلایا گیا۔

ان مشتبہ اشخاص پر بھی امرکی وفاقی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا ہے:

  • ساجد میر – جس نے ڈیوڈ ہیڈلی اور دوسرے لوگوں کے لیے “کام کیا” جنہیں لشکر طیبہ کی طرف سے دھماکوں سے متعلقہ منصوبہ بندی، تیاری اور دہشت گرد ھملوں کو عمل میں لانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی
  • میجر اقبال – پاکستان کا رہائشی جس نے لشکر طیبہ کی طرف سے کیے جانے والے ھملوں میں منصوبہ بندی کی اور مالی مدد فراہم کی
  • ابو قہافا – پاکستان کا رہائشی جس کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا جس نے دوسروں کو دہشت گردی میں استعمال ہونے والی جنگی تربیت مہیا کی
  • مظہر اقبال، عُرف ابو القاما – پاکستان کا رہائشی اور لشکر طیبہ کا ایک کمانڈر

ایک اور تصویر

Mumbai Attacks - English PDF
Mumbai Attacks - Baluchi PDF
Mumbai Attacks - Hindi PDF
Mumbai Attacks - Pashto PDF
Mumbai Attacks - Urdu PDF