مطلوبہ
معلومات جو انصاف کے کٹہرے میں لائے

خالد سعید البتارفی

پچاس لاکھ ڈالر تک

خالد البتارفی یمن کے حادراموت صوبے میں اے کیو اے پی کا ایک سینئر رُکن ہے اور اے کیو اے پی کی شورہ کونسل کا سابقہ ممبر ہے۔ 1999 میں اُس نے افغانستان کا سفر کیا جہاں اُس نے القائدہ کے الفاروق کیمپ میں تربیت دی۔ 2001 میں اُس نے طالبان کے ساتھ امریکہ اور شمالی اتحاد کے خلاف جنگ لڑی۔ 2010 میں البتارفی نے یمن میں اے کیو اے پی میں شمولیت حاصل کی، اور اے کیو اے پی کے جنگجوؤں کی یمن کے ابیان صوبے کو فتح کرنے میں رہنمائی کی اور بعد میں ابیان صوبے میں اے کیو اے پی کا امیر مقرر ہوا۔ جون 2016 میں ایک امریکی حملے میں اے کیو اے پی کے لیڈر ناصر الووہیشی کی موت کے بعد اُس نے ایک دھمکی دی کہ القائدہ امریکی معیشت اور مفاد کو تباہ کر دے گا۔

امریکہ کے یہ اعلان کرنے کے بعد کہ وہ یروشلم کو اسرائیل کے دارلخلافہ کے طور پر قبول کرے گا، جنوری 2018 میں البتارفی نے ایک وڈیو جاری کی جس میں اُس نے امریکہ اور یہودیوں کو دھمکی دی۔ 23 جنوری 2018 کو امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے البتارفی کو صدارتی حُکم 13224 کے تحت ایک خاص عالمی دہشت گرد قرار دیا۔

ایک اور تصویر

al-Rimi and Batarfi English PDF
al-Rimi and Batarfi Arabic PDF
AQAP English PDF
AQAP Arabic PDF