دہشت گرد واقعہ
معلومات جو کہ۔۔۔

آئی سس کا اغواء کرنے والا مربوط نطام

امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا انعامات برائے انصاف پروگرام آئی سس کے اغواء کرنے والے مربوط نظام کے بارے معومات کے لیے یا اُن لوگوں کے بارے جنہوں نے عیسائی پادریوں محر محفوظ، مائیکل کایل، گریگوری اس ابراہیم، بولوس یازیگی اور پا اولو ڈال اوگلیو کے بارے معلومات کے لیے 5 ملین ڈالر تک کے انعام کی پیشکش کر رہی ہے۔ آئی سس کے خلاف ہماری جنگ میں ان انعامات کی پیشکش ایک اہم موقع پر کی جا رہی ہے۔ مذہبی رہنماؤں کا اغواء کیا جانا آئی سس کی بے رحم تدابیر اور معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے کی اجازت کا مظاہرہ ہے۔

9 فروری 2013 کو یونانی کلیسیا کا پادری محر محفوظ اور آرمینیا کا پادری مائیکل کایل ایک سرکاری بس پر کافرون، شام میں ایک خانقاہ تک کا سفر کر رہے تھے۔ الیپو سے تقریبأ 30 کلومیٹر کے فاصلے پر آئی سس کے مشتبہ انتہا پسندوں نے بس کو روکا، مسافروں کے دستاریزات کا معائنہ کیا اور پھر دونوں پادریوں کو بس سے نکالا۔ اُس وقت سے اُنہیں نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی اُن کی طرف سے کوئی خبر آئی ہے۔

22 اپریل 2013 کو شام کا وفاقی صدر بشپ گریگوری اس ابراہیم الیپو، شام سے تُرکی تک یونانی وفاقی صدر بشپ بولوس یزاگی کو لینے کے لیے گیا۔ جب وہ المنصورہ، شام میں ایک چوکی تک پہنچے تو کئی مسلح افراد نے چھپ کر حملہ کیا اور اُن کی گاڑی پر قبضہ کر لیا۔ پادریوں کے ڈرائیور کو بعد میں مُردہ پایا گیا۔ پہلے تو یہ سمجھا گیا کہ صدر پادریوں کو اُن افراد نے اغواء کیا جن کا تعلق جبھت النصراء جو کہ القائدہ کی ایک جماعت ہے سے تھا۔ تاہم صدر پادریوں کو بعد میں دائش منتقل کر دیا گیا جسے آئی سس بھی کہتے ہیں۔

29 جولائی 2013 کو آئی سس نے اطالوی یسوعی پادری پاؤلو ڈال اوگلیو کو راکاہ میں اغواء کیا۔ پادری ڈال اوگلیو نے آئی سس سے ملنے کا منصوبہ بنایا تھا تا کہ پادری محفوظ اور کایل، اور صدر پادری ابراہیم اور یازیگی کو آزاد کرانے کے بارے بات کر سکے۔ اُسے اُس وقت سے نہیں دیکھا گیا اور نہ ہی اُس کی طرف سے کوئی خبر آئی ہے۔

آئی سس امریکہ اور امریکی اتحادیوں اور ساتھیوں کے لیے مشرق وسطیٰ اور پوری دُنیا میں ایک خطرہ ہے۔ ہم عراق اور شام میں اپنے ساتھیوں کی اس دہشت گرد خطرے کو ناکام بنانے میں کوششوں کو سراہتے ہیں اور عالمی برادری کے ساتھ اپنے تعاون کو قائم رکھیں گے تاکہ پوری دنیا میں کوئی بھی جگہ آئی سس کے لیے جائے پناہ نہ بن سکے۔ آئی سس کو 2004 میں انتہا پسند مُساب الزہروی نے “القائدہ میں عراق” یا اے کیو آئی کے طور پر قائم کیا۔ اس جماعت کو بعد میں “عراق کی اسلامی ریاست” کے طور پر جانا گیا۔

آئی سس نے پوری دنیا سے ہزاروں مُریدوں کو عراق اور شام میں لڑنے کے لیے بھرتی کیا ہے جہاں آئی سس کے رُکن گھنونے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں ، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور سنگ دلی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ آئی سس کے ممبران بڑے پیمانے پر قتل کرتے ہیں، انسانوں کی غیر قانونی تجارت کرتے ہیں، بچوں کے اعضاء کاٹتے اور اُن کو قتل کرتے ہیں اور افراد پر اور سماج پر تشدد کرتے ہیں۔ آئی سس یازیدی، عیسائیوں اور شیعہ مسلمانوں پر نس کشی کی اُن علاقوں میں ذمہ دار ہے جہاں اُس کا اختیار ہے۔ اس کے علاوہ انسانیت کے خلاف جُرائم کرنا اور اُن گروہوں کے خلاف نسلی صفایہ جن میں سُنی مسلمان، کُرد اور دُوسری اقلیتیں شامل ہیں۔ اپریل 2013 میں ابُو بکر البغدادی نے جو کہ آئی سس کا موجودہ رہنما ہے کھُلے عام اعلان کیا کہ عراق کی اسلامی ریاست، آئی سس کے نام سے کام کر رہی تھی۔ جون 2014 میں آئی سس جسے دائش کے نام سے بھی جانا جاتا ہےشام اور عراق کے کچھ علاقوں پر قبضہ کیا اور اسلامی خلافت کے قائم کا اعلان کیا اور البغدادی کو خلیفہ مقرر کیا۔حالیہ سالوں میں آئی سس نے جہادی گروہوں اور بنیاد پرست افراد کی حمایت حاصل کی ہے اور امریکہ پر حملوں کی ترغیب دی ہے۔

ایک اور تصویر

ISIS Kidnapping Networks - English
ISIS Kidnapping Networks - French
ISIS Kidnapping Networks - Kurdish
ISIS Kidnapping Networks
Mahfouz
Kayyal
Gregorios
Yazigi
Paulo