مطلوبہ
معلومات جو انصاف کے کٹہرے میں لائے

ابُو بکر البغدادی (Abu Bakr al-Baghdadi)

ڈھائی کروڑ ڈالر تک

ابُو بکر البغدادی جسے ابُو دُعا اور ابراہیم ‘اواد ابراہیم’ ‘علی البدری’ کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے دہشت گرد تنظیم آئی سِل کا ایک اہم رہنماہے۔ البغدادی کی وجہ سے خطرہ میں تب سے اضافہ ہو گیا ہے جب 2011 میں سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اِس انعام کا اعلان کیا تھا کہ کسی بھی معلومات کے لیے جس سے اُس کی جگہ، گرفتاری یا سزایابی میں مدد مِلے۔ جون 2014 آئی سِل جسے دائش کے نام سے بھی جانا جاتا ہے نے شام اور اعراق کے کچھ علاقوں کو قبضے میں لے لیا اور یہ اعلان کیا کہ ایک اسلامی خلافت قائم کی جائے گی اور البغدادی کو اُس کو خلیفہ مقرر کیا جائے گا۔ حالیہ سالوں میں آئی سِل نے جہادی گروپوں کی حمایت حاصل کی ہے، پوری دُنیا میں لوگوں کو انتہا پسند بنایا ہے اور امریکہ پر حملوں کو تحریک دی ہے۔

البغدادی کے زیر رہنمائی آئی سِل مشرق وسطی میں ہزاروں شہریوں کی موت کی ذمہ دار ہے جس میں جاپان، امریکہ اور برطانیہ کے کئی شہریوں کا سفاک قتل بھی شامل ہے۔ 2011 سے عراق پر کئی دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری البغدادی نے قبول کی ہے جن میں اُس کے ہزاروں عراقی ہم وطن مارے گئے۔ گروہ نے خلافت کی قائم کردہ حدوں سے باہر بھی دہشت گرد حملے کیے ہیں۔ نومبر 2015 میں بیروت میں آئی سِل کے دو خودکش حملوں میں 43 لوگ مارے گئے اور 239 زخمی ہوئے۔ اُسی ماہ آئی سِل نے پیرس میں سات حملے کیے جس میں 130 جاں بحق ہوئے اور 350 سے زائد زخمی ہوئے۔ مارچ 2016 میں براسل میں آئی سِل نے کم از کم 34 لوگوں کو ہلاک کیا جس میں چار امریکی شہری بھی شامل تھے اور 270 سے زائد زخمی ہوئے۔

البغدادی کو سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے عدالتی حُکم نامے 13224 کے تحت ایک خاص عالمی دہشت گرد قرار دیا۔ اُس کا نام اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل آئی سِل (دائش) اور القائدہ کی پابندیاں نافذ کرنے والی کمیٹی میں شامل ہے۔

ایک اور تصویر

Baghdadi Poster 1 - English
Photo of Abu Bakr al-Baghdadi