مطلوبہ
معلومات جو انصاف کے کٹہرے میں لائے

ابُو محمد الشمالی (Abu-Muhammad al-Shimali)

پچاس لاکھ ڈالر تک

آئی سِل کے سینئر بارڈر چیف جنہیں ابُو محمد الشمالی کے نام سے بہتر طور پر جانا جاتا ہے، 2005 سے آئی سِل جسے عراق میں پہلے القائدہ کے نام سے جانا جاتا تھا سے منسلک رہے ہیں۔ وہ اب آئی سِل کے امیگریشن اور فوجی نظام کے ایک اہم رُکن ہیں اور دہشت گرد جنگجوؤں کی غزا، تُرکی اور آگے جارابُلس، شام کے آئی سِل کے قبضے میں سرحدوں تک سفر کرنے میں معاونت کرتا ہے۔ الشمالی اور امیگریشن اور فوج کے نظم و ضبط کی کمیٹی، غیر قانونی درآمد و برآمد، پیسوں کے لین دین اور فوجی ذرائع کی شمالی افریقہ، یورپ اور ارب جزیرہ نُما سے شام اور عراق تک پہنچنے میں معاونت کرتے ہیں۔ 2014 میں الشمالی نے آئی سِل کے ممکنہ جنگجوؤں کی جن کا تعلق آسٹریلیا، یورپ اور مشرق وسطی سے تعلق تھا تُرکی سے شام پہنچنے میں مدد کی اور ازاز، شام میں آئی سِل کے نئے رُکنوں سے متعلق دفتری امُور کو سنبھالا۔

امریکہ اور عالمی اتحاد بنانے والے 60 سے زیادہ بین الاقوامی اتحادیوں کا وعدہ ہے کہ وہ آئی سِل کو کمزور اور آخر کار ختم کر کے ہی دم لیں گے۔ اِس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ مشترکہ کوشش کی جائے۔ اتحادیوں کی کوشش کا اہم پہلُو یہ ہے کہ غیر مُلکی دہشت گرد جنگجوؤں کی مسلسل فراوانی کو روکا جائے۔ اِس طریقہ کار کے تحت ہوم لینڈ سیکیورٹی، قانونی ادارے، عدالتی نظام، محکمہ سراغ رسانی، سفارتی، فوجی، تعمیری کام اور ایک دوسرے تک معلومات پہنچانے جیسی کوششوں کی ضرورت ہے۔

100 سے زیادہ ممالک سے 25000 سے زیادہ بیرونی دہشت گرد جنگجُو عراق اور شام تک پہنچے ہیں۔ عراق اور شام میں میدانِ جنگ دہشت گرد جنگجوؤں کو لڑائی کے تجربے، اسلحے اور دھماکہ خیز مواد کی تربیت فراہم کرتے ہیں اور ایسی دہشت گرد تنظیموں تک رسائی فراہم کرتے ہیں جو کہ مغرب پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خطرے کی وجہ سے امریکی وفاقی ایجنسیوں اور بین الاقوامی اشتراق میں تعاون میں اضافہ ہُوا ہے جو کہ دستیاب ذرائع کو استعمال کرتے ہُوئے جنگجوؤں کی روانی میں خلل ڈالنے اور آخر کار آئی سِل کو شکست دینے کی بھر پُور کوشش کریں گے۔