مطلوبہ
معلومات جو انصاف کے کٹہرے میں لائے

عبد اللہ احمد عبداللہ

ایک کروڑ ڈالر تک

عبداللہ القائدہ کا ایک سینئر لیڈر ہے اور القائدہ کی لیڈرشُپ کونسل، “مجلس الشُورہ کا رُکن ہے۔” عبداللہ القائدہ کے لیے ایک تجربہ کار مالیاتی افسر اور مدد گار ہے اور عملیاتی منصوبہ بندی کرتا ہے۔

عبداللہ پر نومبر 1998 میں مقدمہ چلایا گیا اور ایک وفاقی جیوری نے اُس پر 7 اگست 1998 کو درِ اسلام، تنزانیہ اور نیروبی، کینیا میں امریکی سفارت خانوں پر ہونے والے حملوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ اُن حملوں میں 224 لوگ ہلاک اور 5000 سے زائد زخمی ہوئے۔

1990 کی دہائی میں عبداللہ نے القائدہ کے کارکنوں اور سومالیا کے قبائلی لوگوں کو فوجی ٹریننگ مہیا کی جو امریکی فوجوں کے خلاف اُمید بحال کرو کاروائی میں لڑے۔ 1996 سے 1998 تک اُس نے افغانستان میں کئی القائدہ تربیتی کیمپ چلائے۔

قونصل خانوں پر حملوں کے بعد وہ ایران کی اسلامی انقلاب کی فوجوں کے زیرِ خفاظت اِیران منتقل ہو گیا۔ 2003 میں ایرانی حکام نے اُسے اور دوسرے القائدہ لیڈران کو گرفتار کر لیا۔ ستمبر 2015 میں عبداللہ اور دوسرے القائدہ لیڈران کو ایک ایرانی سفیر جس کو القائدہ نے اغواء کیا تھا کے بدلے میں ایرانی جیل سے رہا کر دیا گیا۔

ایک اور تصویر

کی تصویر عبد اللہ احمد عبداللہ
English AAA and SaA PDF