تازہ خبریں

قاسم الرِمی

ایک کروڑ ڈالر تک

قاسم الرِمی کو جون 2015 میں اے کیو اے پی کا امیر مقرر کیا گیا جس کے فورا بعد اُس نے القائدہ کے لیڈر ایمان الزواہیری کے ساتھ فرمانبرداری کا حلف لیا اور امریکہ کے خلاف دہشت گرد حملوں کو نئی شروعات دی۔ 1990 کی دھائی میں الرِمی نے افغانستان میں ایک القائدہ کیمپ میں دہشت گردوں کو تربیت دی اور اُس کے بعد یمن واپس گیا اور اے کیو اے پی کا فوجی سالار بنا۔ اُسے 2005 میں یمن میں امریکی سفیر کو قتل کرنے کی سازش میں 5 سال کی سزا سُنائی گئی لیکن وہ 2006 میں فرار ہو گیا۔ ستمبر 2008 میں امریکی سفارت خانے پر ہونے والے حملے سے بھی الرِمی کا تعلق ہے جس میں 10یمنی محافظ، 4 شہری اور 6 دہشت گرد ہلاک ہُوئے۔ دسمبر 2009 میں الرِمی کا تعلق “زیرِ جامہ بمبار” عُمر فاروق عبدالمطلب کی ایک امریکی ہوائی جہاز کو تباہ کرنے کی خود کش حملے کی کوشش سے بھی جوڑا گیا۔ 2009 میں یمنی حکومت نے اُس پر الزام لگایا کہ وہ یمن کے ابیان صوبے میں القائدہ کے تربیتی کیمپ چلا رہا ہے۔

(پورا متن »)

خالد سعید البتارفی

پچاس لاکھ ڈالر تک

خالد البتارفی یمن کے حادراموت صوبے میں اے کیو اے پی کا ایک سینئر رُکن ہے اور اے کیو اے پی کی شورہ کونسل کا سابقہ ممبر ہے۔ 1999 میں اُس نے افغانستان کا سفر کیا جہاں اُس نے القائدہ کے الفاروق کیمپ میں تربیت دی۔ 2001 میں اُس نے طالبان کے ساتھ امریکہ اور شمالی اتحاد کے خلاف جنگ لڑی۔ 2010 میں البتارفی نے یمن میں اے کیو اے پی میں شمولیت حاصل کی، اور اے کیو اے پی کے جنگجوؤں کی یمن کے ابیان صوبے کو فتح کرنے میں رہنمائی کی اور بعد میں ابیان صوبے میں اے کیو اے پی کا امیر مقرر ہوا۔ جون 2016 میں ایک امریکی حملے میں اے کیو اے پی کے لیڈر ناصر الووہیشی کی موت کے بعد اُس نے ایک دھمکی دی کہ القائدہ امریکی معیشت اور مفاد کو تباہ کر دے گا۔

(پورا متن »)

عبد اللہ احمد عبداللہ

ایک کروڑ ڈالر تک

عبداللہ القائدہ کا ایک سینئر لیڈر ہے اور القائدہ کی لیڈرشُپ کونسل، “مجلس الشُورہ کا رُکن ہے۔” عبداللہ القائدہ کے لیے ایک تجربہ کار مالیاتی افسر اور مدد گار ہے اور عملیاتی منصوبہ بندی کرتا ہے۔

عبداللہ پر نومبر 1998 میں مقدمہ چلایا گیا اور ایک وفاقی جیوری نے اُس پر 7 اگست 1998 کو درِ اسلام، تنزانیہ اور نیروبی، کینیا میں امریکی سفارت خانوں پر ہونے والے حملوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ اُن حملوں میں 224 لوگ ہلاک اور 5000 سے زائد زخمی ہوئے۔

1990 کی دہائی میں عبداللہ نے القائدہ کے کارکنوں اور سومالیا کے قبائلی لوگوں کو فوجی ٹریننگ مہیا کی جو امریکی فوجوں کے خلاف اُمید بحال کرو کاروائی میں لڑے۔ 1996 سے 1998 تک اُس نے افغانستان میں کئی القائدہ تربیتی کیمپ چلائے۔

(پورا متن »)

عبدللہ یارے

ایک کروڑ ڈالر تک

العدل القائدہ کا ایک سینئر لیڈر ہے اور القائدہ کی لیڈرشُپ کونسل، “مجلس الشُورہ کا رُکن ہے۔” العدل القائدہ کی فوجی کمیٹی کی صدارت کرتا ہے۔

العدل پر نومبر 1998 میں مقدمہ چلایا گیا اور ایک وفاقی جیوری نے اُس پر 7 اگست 1998 کو درِ اسلام، تنزانیہ اور نیروبی کینیا میں امریکی قونصل خانوں پر ہونے والے حملوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ اُن حملوں میں 224 لوگ ہلاک اور 5000 سے زائد زخمی ہوئے۔

وہ مصر کی خاص فوجوں میں 1987 تک لیفٹیننٹ کرنل تھا جب مصری وزیر داخلہ کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی اور مصری حکومت نے ہزاروں دوسرے جنگجوؤں کے ساتھ اُسے بھی گرفتار کیا

1990 میں العدل اور دوسرے القائدہ کے کارکنوں نے مختلف ممالک میں فوجی اور سراغ رسانی کی تربیت فراہم کی جس میں افغانستان، پاکستان اور سوڈان شامل ہیں جس کا مقصد القائدہ اور ساتھی جماعتوں کو استعمال کرنا تھا جس میں مصری اسلامی جہاد بھی شامل ہیں۔

(پورا متن »)

عبدل ولی

تین ملین ڈالر تک انعام

عبدل ولی جماعت الاحرار (جے یُو اے) کا رہنُما ہے جو کہ ایک فوجی قبیلہ ہے جس کا تعلق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے ہے۔ خبر کے مطابق وہ افغانستان کے ننگرہار اور کُونار صوبوں سے کام کرتا ہے۔

ولی کی رہنمائی میں ٹی ٹی پی پنجاب صوبے میں سب سے زیادہ سرگرم رہا ہے پورے پاکستان میں کئی خود کش اور دیگر حملوں کا دعوی کیا ہے۔

مارچ 2016 میں جے یُو اے نے ایک عوامی پارک میں لاہور میں ایک خودکش بمباری کی جس میں 75 لوگ جاں بحق اور 340 زخمی ہوئے۔

اگست 2015 میں جے یُو اے نے پنجاب میں ایک خود کش بمباری کا دعوی کیا جس میں پنجاب ہوم منِسٹر شُجاء خانزادہ اور اُس کے 18 مددگار ہلاک ہُوئے۔

(پورا متن »)

منگل باغ

تین ملین ڈالر تک انعام

منگل باغ لشکر اسلام کا رہنما ہے جو کہ ایک فوجی فرقہ ہے جس کا تعلق تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے ہے۔ اُس کا گروہ منشیات کی غیر قانونی لین دین، اغواء، نیٹو کی فوج پر حملے اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت پر ٹیکس کے ذریعے آمدنی حاصل کرتا ہے۔

باغ نے 2006 سے لشکر اسلام کی رہنمائی کی ہے اور مختلف تنظیموں کےساتھ متحد رہا ہے تا کہ وہ اپنی غیر قانونی آمدنی کے راستوں کو محفوظ رکھ سکے۔ اِسی دوران اُس نے مشرقی افغانستان اور مغربی پاکستان کے علاقے خاص طور پر ننگرہار صوبے، افغانستان میں ایک شدت پسند دیو بندی اسلام کو نافذ کیا ہے۔

وہ خیبر ایجنسی میں پیدا ہُوا اور اُس کی عُمر تقریبا پینتالیس سال ہے۔ باغ افریدی قبیلے میں پیدا ہُوا۔ اُس نے ایک مدرسے میں کئی سال تک تعلیم حاصل کی اور بعد میں افغانستان میں مُجاہدی فوجوں کے شانہ بشانہ لڑا۔

(پورا متن »)

احلام احمد التامیمی

پچاس لاکھ ڈالر تک

اُردن کا ایک شہری جسے کھالتی یا حلاتی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے وہ حماس کا ایک سزا یافتہ دہشت گرد کارکن ہے۔

9 اگست 2001 کو التامیمی نے ایک بم اور حماس کے ایک خود کش بمبار کو یروشلم میں سبرُو پیزے کی دُکان تک منتقل کیا جہاں بمبار نے دھماکہ خیز مواد استعمال کرتے ہوئے دھماکہ کیا جس میں 15 لوگ جان بحق ہوئے جس میں 7 بچے بھی شامل تھے۔ حملے میں دو امریکی شہری بھی مارے گئے جس میں جیُوڈتھ سوشانہ گرین بام جو کہ 31 سالہ سکول ٹیچر تھی اور حاملہ تھی اور 15 سالہ مالکہ چنا راتھ بھی شامل تھے۔

2003 میں التامیمی نے ایک اِسرائیلی عدالت میں اقبال جُرم کیا کہ وہ حملے میں شریک تھی اور اُسے اسرائیل میں بمبار کو مدد کرنے کی وجہ سے 16 دفعہ عُمر قید کی سزا ملی۔ اکتوبر 2011 میں اُسے اسرائیل اور حماس کے مابین قیدیوں کے تبادلے کے سلسلے میں رہا کر دیا گیا۔ 14 مارچ، 2017 کو امریکی محکمہ انصاف نے ایک مجرمانہ شکایت کا دوبارہ سے جائزہ لیتے ہُوئے التامیمی کے خلاف گرفتاری کا حکم جاری کیا یہ الزام لگاتے ہوئے کہ اُس نے “امریکی شہریوں کے خلاف وسیع تباہی کے ہتھیار استعمال کرنے کی سازش کی تھی جو موت کا سبب بنے” ایف بی آئی نے بھی التامیم کو سب سے زیادہ مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا ہے اور اُسے “مسلح اور خطرناک” قرار دیا گیا ہے۔

(پورا متن »)

طلال ہمی یاہ (Talal Hamiyah)

سات ملین ڈالر تک انعام

تلال ہمییاہ جو کہ ہزبُلاہ کی بیرونی حفاظتی تنظیم کا رہنُما ہے جو کہ پوری دُنیا میں جماعت کو منظم رکھتی ہے۔ ای ایس او جو کہ ہزبُلاہ کی منصوبہ بندی کرنے اور دہشت گرد حملوں کو لبنان سے باہر کروانے کی ذمہ دار ہے۔ حملوں کو نشانہ اسرائیلی اور امریکی ہیں۔

13 ستمبر، 2012 کو امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے تلال ہمی یاہ کو صدارتی حُکم 13224 کے تحت ہزبُلاہ کی مشرق وسطی میں دہشت گرد کاروائیوں کو مدد دینے کی وجہ سے عالمی دہشت گرد قرار دیا۔

(پورا متن »)

فُواد شُکر (Fuad Shukr)

پچاس لاکھ ڈالر تک

فُواد شکر کافی عرصے سے ہزبُلاہ کے جنرل سیکرٹری حسن نصراللہ جو کہ جنوبی لبنان میں ہزبُلاہ کی فوج کا ایک سینئر ملٹری کمانڈر ہے کے مُشیر کے طور پر کام کرتا ہے۔ وہ جہاد کونسل جو کہ ہزبُلاہ کی سب سے بڑے رُتبے کی فوج ہے میں کام کرتا ہے۔

شُکر ہزبُلاہ کے لیے پچھلے 30 سالوں سے کام کر رہا ہے۔ وہ ہزبُلاہ کے مرحوم کمانڈر اماد مُغنیاہ کا گہرا دوست تھا۔ 23 اکتوبر 1983 کو ہونے والے حملوں میں شُکر نے ایک اہمم کردار ادا کیا جس میں بیروت لبنان میں امریکی بحری فوج کے 241 ارکان جان بحق ہوئے۔

(پورا متن »)

محمد الجالانی (Muhammad al-Jawlani)

ایک کروڑ ڈالر تک

محمد الجالانی جسے ابو محمد الگولانی اور محمد الجولانی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے النصراہ فرنٹ جو کہ القائدہ کی شام کی جماعت ہے کا سینئر رہنما ہے۔ اپریل 2013 میں الجالانی نے القائدہ اور اس کے رہنما ایمان الزواھری کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ جولائی 2016 میں الجالانی نے القائدہ اور الزواھری کی ایک آن لائن ویڈیو میں مدح سرائی کی اور یہ دعوی کیا کہ اے این ایف اپنا نام جابھت فاتھ الشام میں تبدیل کر رہا ہے۔ الجالانی کی زیرِ رہنمائی اے این ایف نے شام میں کئی دہشت گرد حملے کیے ہیں جن میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اپریل 2015 میں اے این ایف نے شام کی ایک چوکی سے تقریبا 300 کُرد شہریوں کو اغوا کیا اور بعد میں چھوڑ دیا۔ جُون 2015 میں اے این ایف نے ڈرُوز گاوں جو کہ شام کے اِڈلِب صوبے میں ہے 20 رہائشیوں کا قتلِ عام کیا۔ (پورا متن »)

جوئل ویسلے شرم (Joel Wesley Shrum) قتل کے

تیز، یمن | 18 مارچ، 2012

مورخہ 18 مارچ 2012 کو، 29 سالہ شرم کو تیز، یمن میں کام پر واپس جاتے ہوئے موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے ان کی گاڑی روک کر فائر مار کر قتل کر دیا۔ اپنی موت کے وقت، شرم بین الاقوامی تربیتی اور ڈویلپمنٹ سینٹر میں بطور منتظم اور انگریزی کے معلم کام کرتے تھے۔ وہ اپنی زوجہ اور دو بچوں کے ہمراہ یمن میں رہائش پذیر تھے۔ حملے کے چند دنوں کے بعد، جزیرۃ العرب کی دہشت گرد تنظیم القاعدہ (AQAP) نے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی۔ امریکی ڈیپارٹمنٹ کے پروگرام ریاستی انعامات برائے انصاف (Rewards for Justice Program) امریکی شہری جوئل شرم کے قتل کے مرتکب، منصوبہ بندی، یا اعانت کرنے والے ان افراد کی گرفتاری یا سزا یابی کے ضمن میں معلومات کے لیے 5 ملین ڈالر تک کا انعام پیش کر رہا ہے۔ (پورا متن »)

ابُو بکر البغدادی (Abu Bakr al-Baghdadi)

ڈھائی کروڑ ڈالر تک

ابُو بکر البغدادی جسے ابُو دُعا اور ابراہیم ‘اواد ابراہیم’ ‘علی البدری’ کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے دہشت گرد تنظیم آئی سِل کا ایک اہم رہنماہے۔ البغدادی کی وجہ سے خطرہ میں تب سے اضافہ ہو گیا ہے جب 2011 میں سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اِس انعام کا اعلان کیا تھا کہ کسی بھی معلومات کے لیے جس سے اُس کی جگہ، گرفتاری یا سزایابی میں مدد مِلے۔ جون 2014 آئی سِل جسے دائش کے نام سے بھی جانا جاتا ہے نے شام اور اعراق کے کچھ علاقوں کو قبضے میں لے لیا اور یہ اعلان کیا کہ ایک اسلامی خلافت قائم کی جائے گی اور البغدادی کو اُس کو خلیفہ مقرر کیا جائے گا۔ حالیہ سالوں میں آئی سِل نے جہادی گروپوں کی حمایت حاصل کی ہے، پوری دُنیا میں لوگوں کو انتہا پسند بنایا ہے اور امریکہ پر حملوں کو تحریک دی ہے۔ (پورا متن »)

گُل مُراد خلیمُوو (Gulmurod Khalimov)

تین ملین ڈالر تک انعام

سابق تاجکستان کی اہم فوجوں کا کرنل، پولیس کا سالار اور فوجی نشانہ باز گُل مُراد خلیموو (آئی سِل) کا رُکن اور بھرتی کار ہے۔ وہ تاجکستان کی وزارت داخلہ میں ایک خاص نیم فوج کا سپہ سالار تھا۔ خلیموو ایک پروپیگنڈا وڈیو میں ظاہر ہُوا اور اس بات کی تصدیق کی کہ وہ آئی سِل کے لیے جنگ لڑ رہا ہے اور امریکیوں کے خلاف دہشت گرد کاروائیوں کو کھُلے عام شہ دے رہا ہے (پورا متن »)

ابُو محمد الشمالی (Abu-Muhammad al-Shimali)

پچاس لاکھ ڈالر تک

آئی سِل کے سینئر بارڈر چیف جنہیں ابُو محمد الشمالی کے نام سے بہتر طور پر جانا جاتا ہے، 2005 سے آئی سِل جسے عراق میں پہلے القائدہ کے نام سے جانا جاتا تھا سے منسلک رہے ہیں۔ وہ اب آئی سِل کے امیگریشن اور فوجی نظام کے ایک اہم رُکن ہیں اور دہشت گرد جنگجوؤں کی غزا، تُرکی اور آگے جارابُلس، شام کے آئی سِل کے قبضے میں سرحدوں تک سفر کرنے میں معاونت کرتا ہے۔ الشمالی اور امیگریشن اور فوج کے (پورا متن »)

معلومات جس سے بہت زیادہ روکنے میں مدد ملے تیل کی تجارت اور آثار قدیم آئی سِل کو فائدہ پہنچا رہے ہیں

نعامات برائے انصاف پروگرام ایسی معلومات کے لیے 5 ملین ڈالر تک کے انعام کی پیشکش کر رہا ہے جس سے آئی سِل جسے دائش کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کی تیل کی تجارت اور قدم خیالات کو ختم کرنے میں مدد ملے۔ (پورا متن »)